جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں
زندگی یہ تِری سزا تو نہیں
جانے کِس موڑ پر بچھڑ جائے
ہم سفر نے ابھی کہا تو نہیں
ہم مسافر ہیں ، آخرِ شب کے
چل پڑیں ، کب ، کہیں ، پتا تو نہیں
کوئی ویران کر گیا ہے شہر
لوگ کہتے ہیں کچھ ہوا تو نہیں
یہ مِرا گھر ہے یا کوئی صحرا
پھول آنگن کوئی کِھلا تو نہیں
وہ جو کب کا بچھڑ گیا یوسف
شہرِ جاں سے ابھی گیا تو نہیں
۔۔۔۔
شور ایسا مری بستی کی فضا چاہتی ہے
ایک دنیا بھی سُنے ، ایسی ندا چاہتی ہے
آخری سانس کا یہ پھول مرے ہاتھ میں ہے
چارہ گر ! خلقِ خدا تجھ سے دوا چاہتی ہے
چل پڑی ہے یہ کہاں دیس کی بیٹی یوسف
اُس سے بستی تو مری شرم و حیا چاہتی ہے
